السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما قيل في بدء الصيام إلى أن نسخ بفرض صوم شهر رمضان باب: روزوں کی ابتدا کے متعلق جو کہا گیا، یہاں تک کہ وہ ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ذریعے منسوخ ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأَمَّا حَوْلُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ بَعْدَمَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ عَاشُورَاءَ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا شَهْرَ رَبِيعٍ إِلَى شَهْرِ رَبِيعٍ إِلَى رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ عَلَيْهِ شَهْرَ رَمَضَانَ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [البقرة: ١٨٣] " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، هَذَا مُرْسَلٌ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین حالتوں میں رمضان فرض ہوا، پھر پوری حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: روزے کی کیفیت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے آنے کے بعد روزہ رکھا، پھر آپ ﷺ نے ہر ماہ تین روزے رکھنے شروع کر دیے اور عاشور کا روزہ بھی رکھا اور اس طرح سترہ مہینے روزے رکھے، ربیع کے مہینے سے ربیع کے مہینے تک، رمضان تک۔ پھر اللہ نے ان پر رمضان کا مہینہ فرض کر دیا اور یہ حکم نازل فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 183] کہ ”تم پر روزے فرض کیے جیسے پہلے لوگوں میں فرض کیے گئے تھے“۔
یہ روایت مرسل ہے، عبدالرحمن (بن ابی لیلیٰ) نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔