❮
❯
حدیث نمبر: 7852
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعْدٍ: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَأْكُلُ عَلَى آبَائِنَا وَإِخْوَانِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ رُطَبِ مَا تَأْكُلْنَ وَتُهْدِينَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے والدوں اور بھائیوں کے زیرِ کفالت ہیں، کیا ان کے مال میں ہمارے لیے کچھ جائز نہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تازہ کھانا کھانے کی اجازت ہے جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ بھی دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7852
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظرقبله»