السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المرأة تتصدق من بيت زوجها بالشيء اليسير غير مفسدة باب: عورت کا اپنے شوہر کے گھر سے بگاڑ پیدا کیے بغیر تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7852
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعْدٍ: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَأْكُلُ عَلَى آبَائِنَا وَإِخْوَانِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ رُطَبِ مَا تَأْكُلْنَ وَتُهْدِينَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ سعدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اپنے والدوں اور بھائیوں کے زیرِ کفالت ہیں، کیا ان کے مال میں ہمارے لیے کچھ جائز نہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تازہ کھانا کھانے کی اجازت ہے جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ بھی دو۔“