السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المرأة تتصدق من بيت زوجها بالشيء اليسير غير مفسدة باب: عورت کا اپنے شوہر کے گھر سے بگاڑ پیدا کیے بغیر تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7851
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٣٢٤⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَأْكُلُ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا؟ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَأَرَى فِيهِ: وَأَزْوَاجِنَا، وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ: عَلَى أَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: " الطَّعَامُ الرَّطِبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ "، قَالَ: لَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ سَوَّارٍ: الطَّعَامُ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے صرف عورتوں سے بیعت لی تو ایک بڑی عورت کھڑی ہوگئی گویا وہ مضر قبیلے سے تھی، تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم ساری کی ساری اپنے بیٹوں اور والدوں پر ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ خاوندوں پر بھی کہا، یعنی ہمارے لیے ان کے اموال میں سے کچھ جائز نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تازہ کھانا کھاؤ اور ہدیہ دو۔“