السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7853
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ: " لَا إِلَّا مِنْ قُوتِهَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ " هَذَا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ أَحَدُ رُوَاةِ تِلْكَ الْأَخْبَارِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس عورت کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کرتی ہے کہ وہ صرف اپنے کھانے میں سے کر سکتی ہے اور اجر دونوں کو ملے گا۔ ویسے اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے بغیر اجازت کے صدقہ کرے۔