کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کا اپنے شوہر کے گھر سے بگاڑ پیدا کیے بغیر تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7848
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، فَلَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُهُ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے کھلاتی ہے بغیر کسی فساد و خرابی کے تو اس کے لیے اس کا اجر ہو گا اور اس کے خاوند کے لیے بھی اس قدر ہو گا اور ایسے ہی خازن کے لیے بھی اس کا اجر ہو گا جو اس نے کمایا اور اس کے لیے ہے جو تو نے خرچ کیا۔“
حدیث نمبر: 7849
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرُهُ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر خرابی ڈالے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کا اجر ہوگا اور اس کے خاوند کو کمانے کا اجر ملے گا اور خازن کے لیے بھی ایسے ہی ہے اور یہ ایک دوسرے کے اجر میں کمی کیے بغیر ہوگا۔“
حدیث نمبر: 7850
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ الْإِنْفَاقِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت روزہ نہ رکھے اس صورت میں کہ اس کا خاوند موجود ہو سوائے اس کی اجازت کے اور اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اجازت نہ دے اور جو اس نے بغیر اجازت اس کی کمائی میں سے خرچ کیا تو آدھا اجر اس کو ملے گا۔“
حدیث نمبر: 7851
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٣٢٤⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَأْكُلُ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا؟ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَأَرَى فِيهِ: وَأَزْوَاجِنَا، وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ: عَلَى أَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: " الطَّعَامُ الرَّطِبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ "، قَالَ: لَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ سَوَّارٍ: الطَّعَامُ، تَابَعَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے صرف عورتوں سے بیعت لی تو ایک بڑی عورت کھڑی ہوگئی گویا وہ مضر قبیلے سے تھی، تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم ساری کی ساری اپنے بیٹوں اور والدوں پر ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ خاوندوں پر بھی کہا، یعنی ہمارے لیے ان کے اموال میں سے کچھ جائز نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تازہ کھانا کھاؤ اور ہدیہ دو۔“
حدیث نمبر: 7852
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعْدٍ: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَأْكُلُ عَلَى آبَائِنَا وَإِخْوَانِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ رُطَبِ مَا تَأْكُلْنَ وَتُهْدِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ سعدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اپنے والدوں اور بھائیوں کے زیرِ کفالت ہیں، کیا ان کے مال میں ہمارے لیے کچھ جائز نہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تازہ کھانا کھانے کی اجازت ہے جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ بھی دو۔“