السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية إمساك الفضل وغيره محتاج إليه باب: ضرورت سے زائد مال کو روک کر رکھنے کی کراہت کا بیان جب کہ کوئی دوسرا اس کا محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 7784
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا آدَمُ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمُطْعِمِ بْنِ مِقْدَامٍ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ نَصِيحٍ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَقَالَ طُوبَى لِمَنْ حَسُنَتْ سَرِيرَتُهُ، وَكَرُمَتْ عَلَانِيَتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ وہی حدیث بیان کرتے ہیں، مگر انہوں نے اس قول کا تذکرہ نہیں کیا کہ ”بشارت ہو اس کو جس نے اپنے آپ کو حقیر جانا اور عمدہ کمایا“ اور فرمایا ﷺ کہ ”خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے باطن کو صاف کیا اور اپنے ظاہر کو عمدہ بنایا۔“