کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ضرورت سے زائد مال کو روک کر رکھنے کی کراہت کا بیان جب کہ کوئی دوسرا اس کا محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 7781
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَفِي رِوَايَةِ الْجَهْضَمِيِّ: شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
شداد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابنِ آدم! اگر تو اپنا بچا ہوا (زائد مال) خرچ کر دے تو تیرے لیے بہتر ہے، اگر تو اسے روک رکھے تو تیرے لیے برا ہے، اور کفایت (بقدرِ ضرورت مال پاس رکھنے) پر تجھے ملامت نہیں کی جائے گی، اور (صدقہ و خیرات کا) آغاز اپنے اہل سے کرو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7781
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو الْفَضْلِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْأَيْلِيُّ، حدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ ⦗٣٠٦⦘ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ " قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم پیارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، اچانک ایک آدمی اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس اضافی سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس اضافی زادِ راہ ہو وہ اسے دے، جس کے پاس زادِ راہ نہیں“، پھر آپ ﷺ نے مال کی کچھ اقسام بیان کیں، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ بچے ہوئے پر ہمارا کوئی حق نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7782
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7783
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، وَمَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوبَى لِمَنْ تَوَاضَعَ مِنْ غَيْرِ مَنْقَصَةٍ، وَذَلَّ فِي نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ مَسْكَنَةٍ، وَأَنْفَقَ مَالًا جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَرَحِمَ أَهْلَ الذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ وَالْحِكْمَةِ، طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَصَلُحَتْ سَرِيرَتُهُ، وَحَسُنَتْ عَلَانِيَتُهُ، وَعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ، طُوبَى لِمَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ، وَأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خوشخبری ہو جس نے تواضع کی بغیر کسی کمی کے اور جس نے اپنے آپ کو ان سے کم تر جانا جو مسکین ہیں اور جس نے وہ مال خرچ کیا جو بغیر نافرمانی کے جمع کیا تھا اور جس نے مسکینوں اور محتاجوں پر رحم کیا اور جو کوئی سمجھدار اور دانا لوگوں سے مل گیا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے آپ کو کم تر حقیر جانا اور پاکیزہ کمایا اور اپنے باطن کو درست کیا اور اپنے ظاہر کو اچھا کیا اور لوگوں کے شر سے دور رہا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنے بچے ہوئے مال کو خرچ کیا اور اپنی کہی ہوئی بات کو محفوظ رکھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7783
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الطبراني»
حدیث نمبر: 7784
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا آدَمُ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمُطْعِمِ بْنِ مِقْدَامٍ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ نَصِيحٍ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَقَالَ طُوبَى لِمَنْ حَسُنَتْ سَرِيرَتُهُ، وَكَرُمَتْ عَلَانِيَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ وہی حدیث بیان کرتے ہیں، مگر انہوں نے اس قول کا تذکرہ نہیں کیا کہ ”بشارت ہو اس کو جس نے اپنے آپ کو حقیر جانا اور عمدہ کمایا“ اور فرمایا ﷺ کہ ”خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے باطن کو صاف کیا اور اپنے ظاہر کو عمدہ بنایا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7784
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الطبراني»