السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في حقوق المال باب: مال کے حقوق کے متعلق جو منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفَةِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا، لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: " إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَمَنِيحَتِهَا، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَحَمَلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زِكْوَتَهَ إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ، وَيُقَالُ: هَذَا مَالِكٌ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا، وَمَنِيحَتِهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ " ⦗٣٠٧⦘.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی اونٹوں والا اور نہ بکریوں والا اور نہ گائے والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر اسے قیامت کے دن ایک میدان میں بٹھایا جائے گا۔ پھر اسے کھروں والے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں والے اپنے سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن کوئی جانور گنجا نہیں ہوگا اور نہ ہی ٹوٹے سینگوں والا۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کا کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے سانڈ کو اس پر چھوڑنا، اس کا دودھ عاریت پر دینا اور اسے دوہنا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار ہونا اور آدمی اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن بڑے اژدھا میں تبدیل کر دیا جائے گا جو اپنے مال دار مالک کا پیچھا کرے گا وہ جہاں بھی چلا جائے اور وہ اس سے بھاگے گا اور اسے کہا جائے گا: تیرا مال یہ ہے جس کی وجہ سے تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تب اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈالے گا تو وہ اسے نگلنا شروع کر دے گا جیسے جانور چباتا ہے۔“
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اونٹ کا کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پر دوہنا، اس کا دودھ عاریت پر دینا اور اس کے سانڈ کو عاریت پر دینا اور اس کو اللہ کی راہ میں اس پر سواری کرنا۔“