السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية إمساك الفضل وغيره محتاج إليه باب: ضرورت سے زائد مال کو روک کر رکھنے کی کراہت کا بیان جب کہ کوئی دوسرا اس کا محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 7783
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، وَمَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوبَى لِمَنْ تَوَاضَعَ مِنْ غَيْرِ مَنْقَصَةٍ، وَذَلَّ فِي نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ مَسْكَنَةٍ، وَأَنْفَقَ مَالًا جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَرَحِمَ أَهْلَ الذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ وَالْحِكْمَةِ، طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَصَلُحَتْ سَرِيرَتُهُ، وَحَسُنَتْ عَلَانِيَتُهُ، وَعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ، طُوبَى لِمَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ، وَأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خوشخبری ہو جس نے تواضع کی بغیر کسی کمی کے اور جس نے مسکین ہوئے بغیر اپنے آپ کو کم تر جانا اور جس نے وہ مال خرچ کیا جو بغیر نافرمانی کے جمع کیا تھا اور جس نے مسکینوں اور محتاجوں پر رحم کیا اور جو کوئی سمجھدار اور دانا لوگوں سے مل گیا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے آپ کو کم تر حقیر جانا اور پاکیزہ کمایا اور اپنے باطن کو درست کیا اور اپنے ظاہر کو اچھا کیا اور لوگوں کو اپنے شر سے دور رکھا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنے بچے ہوئے مال کو خرچ کیا اور اپنی زائد باتوں کو روک رکھا۔“