السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كراهية إمساك الفضل وغيره محتاج إليه باب: ضرورت سے زائد مال کو روک کر رکھنے کی کراہت کا بیان جب کہ کوئی دوسرا اس کا محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 7782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو الْفَضْلِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْأَيْلِيُّ، حدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ ⦗٣٠٦⦘ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ " قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم پیارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، اچانک ایک آدمی اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس اضافی سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس اضافی زادِ راہ ہو وہ اسے دے، جس کے پاس زادِ راہ نہیں“، پھر آپ ﷺ نے مال کی کچھ اقسام بیان کیں، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ بچے ہوئے پر ہمارا کوئی حق نہیں۔