السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث. باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْحِمْيَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَ أَبُو يُوسُفَ مَالِكًا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنْينَ عَنِ الصَّاعِ، كَمْ هُوَ رِطْلًا؟ قَالَ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الصَّاعَ لَا يُرْطَلُ، فَفَحَمَهُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: " فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَمَعْنَا أَبْنَاءَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَوْتُ بِصَاعَاتِهِمْ، فَكُلٌّ حَدَّثَنِي عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هَذَا صَاعُهُ فَقَدَّرْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مُسْتَوِيَةً، فَتَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَرَجَعْتُ إِلَى هَذَا ".ابو احمد محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے امیر المؤمنین کے پاس پوچھا کہ صاع کتنے رطل کا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ صاع کے رطل نہیں ہوتے اور اسے یہ جواب دے کر لاجواب کر دیا۔ ابو احمد فرماتے ہیں: میں نے حسین بن ولید کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں مدینہ آیا اور اصحابِ رسول ﷺ کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے تمام صاع منگوائے تو وہ سب کے سب رسول اللہ ﷺ کی حدیث نقل فرمانے لگے کہ یہی وہ صاع ہے، تو میں نے ان سب کے صاع کو برابر پایا۔ پھر میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اس کی طرف رجوع کر لیا۔