حدیث نمبر: 7721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ مِنَ الْحَجِّ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَفْتَحَ عَلَيْكُمْ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ هَمَّنِي، تَفَحَّصْتُ عَنْهُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالُوا: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُمْ: مَا حُجَّتُكُمْ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَأْتِيكَ بِالْحُجَّةِ غَدًا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَانِي نَحْوٌ مِنْ خَمْسِينَ شَيْخًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الصَّاعُ تَحْتَ رِدَائِهِ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَوْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هِيَ سَوَاءٌ، قَالَ: فَعَايَرْتُهُ فَإِذَا هُوَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِنُقْصَانٍ مَعَهُ يَسِيرٍ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا قَوِيًّا فَقَدْ تَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الصَّاعِ، وَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " قَالَ الْحُسَيْنُ: فَحَجَجْتُ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالَ: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: كَمْ رِطْلًا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ الْمِكْيَالَ لَا يُرْطَلُ، هُوَ هَذَا. ⦗٢٨٧⦘ قَالَ الْحُسَيْنُ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ هَذَا صَاعُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

حسین بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف رحمہ اللہ حج سے واپسی پر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پر علم کا ایک ایسا دروازہ کھولوں جس نے مجھے تیار کیا اور میں انہیں چھوڑ کر مدینہ چلا آیا، پھر میں نے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ ہمارا صاع رسول اللہ ﷺ کا صاع ہے۔ میں نے ان سے کہا: تمہاری کیا دلیل ہے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے پاس اس کی دلیل لاتے ہیں۔ اگلی صبح میرے پاس پچاس شیوخ کے لگ بھگ آئے جو مہاجرین و انصار کے بیٹے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کی چادر کے نیچے صاع تھا اور ان میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں یا والدین سے کہہ رہا تھا کہ یہی رسول اللہ ﷺ کا صاع ہے۔ جب میں نے دیکھا تو سب کو برابر پایا اور وہ سوا پانچ رطل سے کچھ کم تھا تو میں نے اس کو قوی جانا اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اہل مدینہ کے قول کو قبول کر لیا۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ صاع رسول اللہ ﷺ ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کتنے رطل کا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا صاع ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7721
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ رجاله ثقات»