حدیث نمبر: 7719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابٍ مُعَارَضٍ بِأَصْلِهِ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بكرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: " الْفَرَقُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا "، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ ". قَالَ: فَمَنْ قَالَ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ؟ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابوداؤد سبحستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا کہ ایک صاع سولہ رطل کا ہے جو ابن ابی ذئب کا صاع ہے اور وہ سوا پندرہ رطل کا ہے۔ جس نے آٹھ رطل کا کہا ہے وہ غیر محفوظ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7719
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله ثقات»