السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث. باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
حدیث نمبر: 7718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَحُمَيْدٌ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ ⦗٢٨٦⦘ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ " وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ " أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَسَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرِهِمْ عَنْ مُجَاهِدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ حدیبیہ میں تھے اور یہ مکہ میں دخول سے پہلے کی بات ہے اور وہ محرم تھے اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے تیرے یہ جانور پریشان کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوا دے اور کھجور کا ایک «فَرَق» (ٹوکرا) چھ مسکینوں کو کھلا، اور «فَرَق» تین «صَاع» کا ہوتا ہے، یا پھر تین دن کے روزے رکھ یا ایک قربانی دے۔“ ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ ایک بکری ذبح کر۔