السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ عَمَّارٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْأَبْيَضُ بْنُ الْأَغَرِّ، حدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ مِمَنْ تُمَوِّنُونَ. إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر کا حکم دیا ہر چھوٹے بڑے سے اور آزاد و غلام کی طرف سے جن سے تم کام لیتے ہو۔“