السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال: لا يؤدي عن مكاتبه. باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”آدمی اپنے مکاتب غلام کی طرف سے ادا نہیں کرے گا“۔
حدیث نمبر: 7686
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا قَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ مَمْلُوكٍ لَهُ فِي أَرْضِهِ وَغَيْرِ أَرْضِهِ وَعَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ يَعُولُهُ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ وَعَنْ رَقِيقِ امْرَأَتِهِ، وَكَانَ لَهُ مُكَاتَبٌ بِالْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا يُؤَدِّي عَنْهُ. ⦗٢٧٣⦘ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ مُكَاتَبَانِ فَلَا يُعْطِي عَنْهُمَا الزَّكَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ہر اس غلام کی طرف سے جو ان کی زمین میں ہوتا یا زمین کے علاوہ میں، اور ہر اس انسان کی طرف سے جس کو وہ کھلاتے تھے، خواہ وہ چھوٹا ہوتا یا بڑا، اور اپنی بیوی کے غلاموں کی طرف سے بھی؛ لیکن مدینہ میں ان کے کچھ مکاتب تھے، ان کی طرف سے نہیں دیتے تھے۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو مکاتب غلام تھے مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔