کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر (زکاۃ الفطر) نکالا کرتے تھے، ہم ہر چھوٹے، بڑے، غلام اور آزاد کی طرف سے گندم، پنیر، جو، کھجور یا منقیٰ میں سے ایک صاع کے بقدر نکالا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7673
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ⦗٢٧٠⦘ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عراک بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام میں صدقہ نہیں ہے سوائے صدقہ فطر کے۔“
حدیث نمبر: 7674
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَفِي عَبْدِهِ إِلَّا زَكَاةُ الْفِطْرِ ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں، سوائے صدقہ فطر کے۔“ ابن ابی حریم نے یہ بیان کیا کہ مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7675
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ كَبِيرٍ أَوْ صَغِيرٍ أَوْ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، كَذَا قَالُوا عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک صاع کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے مقرر کیا۔“
حدیث نمبر: 7676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي عَنِ الصَّغِيرِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، فَقَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ عَلِيٌّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آپ نے صدقہ فطر کھجور اور جو میں سے ہر ایک صاع چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے مقرر فرمایا۔“
میں نے اپنی کتاب میں بچے کی طرف سے ایسے ہی پایا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے «عَنْ» کی جگہ «عَلَى» ذکر کیا ہے۔
میں نے اپنی کتاب میں بچے کی طرف سے ایسے ہی پایا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے «عَنْ» کی جگہ «عَلَى» ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 7677
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَعَدَّ لَهُ النَّاسُ بِمُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ ". ⦗٢٧١⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَحْدَهُ، قَالَ: عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا، ”ہر چھوٹے، بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے جو یا کھجور کا ایک صاع“، تو لوگوں نے اسے گندم کے دو مد کے برابر سمجھا۔
عبداللہ بن ولید صرف عبید اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ”یہ ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے ہے۔“
عبداللہ بن ولید صرف عبید اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ”یہ ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے ہے۔“
حدیث نمبر: 7678
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ بِمِصْرَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ أَوْ قَالَ: رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ". قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرُ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُعْطِي عَنْ بَنِي نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر فرض کیا“ یا ”صدقہ رمضان فرمایا، ہر مذکر و مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع“ تو لوگوں نے اسے گندم کے آدھے صاع کے برابر سمجھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے تو اہل مدینہ نے کھجور کے عوض جو دیے اور وہ ہر چھوٹے بڑے کی طرف سے دیا کرتے تھے حتیٰ کہ بنو نافع کی طرف سے بھی۔
حدیث نمبر: 7679
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: صَدَقَةُ الْفِطْرِ لَمْ يَشُكَّ، وَقَالَ: مِنَ التَّمْرِ عَامًا، وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُعْطِيهَا إِذَا قَعَدَ الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يَقْعُدُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ، فَقَالَ: عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ربیع رحمہ اللہ، حماد رحمہ اللہ سے یہی حدیث اسی سند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، مگر یہ بات بھی کہی کہ صدقہ فطر میں کوئی شک نہیں۔
حدیث نمبر: 7680
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ بِوَادِي الْقُرَى وَخَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے جو وادی القریٰ اور خیبر میں تھے۔
حدیث نمبر: 7681
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ مَمْلُوكٍ لَهُ فِي أَرْضِهِ وَغَيْرِ أَرْضِهِ وَعَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ كَانَ يَعُولُهُ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، وَعَنْ رَقِيقِ امْرَأَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ، نافع رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر اس غلام کی طرف سے ادا کرتے تھے جو ان کی زمین میں تھا یا اس کے علاوہ، اور ہر اس شخص کی طرف سے جو ان کی سرپرستی میں ہوتا، چھوٹا ہوتا یا بڑا، اور بیوی کے غلاموں کی طرف سے بھی ادا فرماتے۔
حدیث نمبر: 7682
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ⦗٢٧٢⦘ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى مِمَنْ تُمَوِّنُونَ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر ہر غلام و آزاد اور مذکر و مؤنث پر مقرر کیا جن سے وہ کام لیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 7683
وَرَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ مِمَنْ يُمَوِّنُونَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ " وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ وَهُوَ مُرْسَلٌ. وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ آبَائِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر جن سے کام لیتے، جو، کھجور یا منقیٰ کا ایک صاع ایک انسان کی طرف سے مقرر فرمایا۔“
حدیث نمبر: 7684
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ جَرَتْ عَلَيْهِ نَفَقَتُكَ فَأَطْعِمْ عَنْهُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى غَيْرُ قَوِيٍّ إِلَّا أَنَّهُ إِذَا انْضَمَّ إِلَى مَا قَبْلَهُ قَوِيًّا فِيمَا اجْتَمَعَا فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جن کا نان و نفقہ تیرے ذمے ہے ان کی طرف سے آدھا صاع گندم یا ایک صاع کھجور سے ادا کرو۔ عبد الاعلیٰ غیر قوی ہے مگر اس سے پہلے قوی تھے۔
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو مکاتب غلام تھے، مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو مکاتب غلام تھے، مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 7685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ عَمَّارٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْأَبْيَضُ بْنُ الْأَغَرِّ، حدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ مِمَنْ تُمَوِّنُونَ. إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر کا حکم دیا ہر چھوٹے بڑے سے اور آزاد و غلام کی طرف سے جن سے تم کام لیتے ہو۔“