السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7684
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ جَرَتْ عَلَيْهِ نَفَقَتُكَ فَأَطْعِمْ عَنْهُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى غَيْرُ قَوِيٍّ إِلَّا أَنَّهُ إِذَا انْضَمَّ إِلَى مَا قَبْلَهُ قَوِيًّا فِيمَا اجْتَمَعَا فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جن کا نان و نفقہ تیرے ذمے ہے ان کی طرف سے آدھا صاع گندم یا ایک صاع کھجور سے ادا کرو۔ عبد الاعلیٰ غیر قوی ہے مگر اس سے پہلے قوی تھے۔
سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو مکاتب غلام تھے، مگر وہ ان کی طرف سے صدقہ فطر نہیں دیتے تھے۔