السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي عَنِ الصَّغِيرِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، فَقَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ عَلِيٌّ.حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آپ نے صدقہ فطر کھجور اور جو میں سے ہر ایک صاع چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے مقرر فرمایا۔“
میں نے اپنی کتاب میں بچے کی طرف سے ایسے ہی پایا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یحییٰ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے «عَنْ» کی جگہ «عَلَى» ذکر کیا ہے۔