السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7675
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ كَبِيرٍ أَوْ صَغِيرٍ أَوْ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، كَذَا قَالُوا عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک صاع کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے مقرر کیا۔“