السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7677
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَعَدَّ لَهُ النَّاسُ بِمُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ ". ⦗٢٧١⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَحْدَهُ، قَالَ: عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا، ”ہر چھوٹے، بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے جو یا کھجور کا ایک صاع“، تو لوگوں نے اسے گندم کے دو مد کے برابر سمجھا۔
عبداللہ بن ولید صرف عبید اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ”یہ ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام کی طرف سے ہے۔“