السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إخراج زكاة الفطر عن نفسه وغيره ممن تلزمه مؤنته من أولاده وآبائه وأمهاته ورقيقه الذين اشتراهم للتجارة أو لغيرها وزوجاته باب: اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے زکوٰۃ الفطر ادا کرنا جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، یعنی اس کی اولاد، اس کے آباؤ اجداد، اس کی مائیں، اس کے وہ غلام جو اس نے تجارت یا دیگر مقاصد کے لیے خریدے ہوں، اور اس کی بیویاں۔
حدیث نمبر: 7674
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَفِي عَبْدِهِ إِلَّا زَكَاةُ الْفِطْرِ ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں، سوائے صدقہ فطر کے۔“ ابن ابی حریم نے یہ بیان کیا کہ مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوۃ نہیں ہے۔