السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال لا زكاة في الدين باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”قرض میں زکوٰۃ نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7627
رَوَاهُ الزَّعْفَرَانِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ، وَالرُّجُوعُ أَوْلَى بِهِ لِمَا مَضَى مِنَ الْآثَارِ وَغَيْرِهَا مِنَ الظَّوَاهِرِ..حافظ ثناء اللہ
اسے زعفرانی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، پھر انہوں نے اپنے قولِ جدید میں اس سے رجوع کر لیا تھا، اور گزرے ہوئے آثار اور دیگر ظاہری دلائل کی بنا پر ان کا رجوع کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَيْكَ فِي دَيْنٍ لَكَ زَكَاةٌ وَإِنْ كَانَ فِي مُلَاءٍ ". وَقَدْ حَكَاهُ ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ ثُمَّ عِكْرِمَةَ وَعَطَاءٍ.حافظ ثناء اللہ
عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عطاء رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ تجھ پر تیرے قرض میں زکوٰۃ نہیں، اگرچہ وہ مکمل ہو۔