السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الدين إذا كان على ملي موفى باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی مالدار اور حق ادا کرنے والے کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7622
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَسْلِفُ أَمْوَالَ يَتَامَى مِنْ عِنْدِهِ؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَرَى أَنَّهُ أَحْرَزُ لَهُ مِنَ الْوَضْعِ، قَالَ: وَكَانَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِثْلَ قَوْلِ هَؤُلَاءِ ثُمَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَالزُّهْرِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یتیموں کا مال قرض پر لیتے تھے، کیونکہ وہ اسے رکھے رہنے سے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے اور ان کے اموال کی زکوۃ ادا کیا کرتے تھے۔