حدیث نمبر: 7615
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَسْتَسْلِفُ عَلَى حَائِطِهِ وَحَرْثِهِ مَا يُحِيطُ بِمَا تُخْرِجُ أَرْضُهُ، فَقَالَ: " لَا نَعْلَمُ فِي السُّنَّةِ أَنْ يُتْرَكَ حَرْثُ أَوْ ثَمَرُ رَجُلٍ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَلَا يُزَكِّي وَلَكِنَّهُ يُزَكِّي وَعَلَيْهِ دَيْنُهَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ ذَهَبٌ وَوَرِقٌ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَإِنَّهُ لَا يُزَكِّي حَتَّى يَقْضِيَ الدَّيْنَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن مبارک رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو باغ اور کھیت کرائے پر لیتا ہے اور اس کی پیداوار کا اندازہ نہیں لگایا جاتا تو انہوں نے کہا: ہم سنت سے نہیں جانتے کہ کھیت یا پھل ایسے آدمی کے لیے جس پر اس میں قرض ہو، پھر وہ زکاۃ ادا نہ کرے، لیکن وہ زکاۃ ادا کرے گا اگر اس پر قرض بھی ہے۔ لیکن وہ شخص جس کے پاس سونا اور چاندی ہو اور اس میں اس پر قرض بھی ہو، تو وہ اتنی دیر زکاۃ نہیں دے گا جب تک قرض ادا نہ ہو جائے۔