حدیث نمبر: 7614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِثْلُهُ أَعَلَيْهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: " لَا ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے پوچھا: جس کے پاس مال ہے اور اتنا ہی قرض ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ تو انہوں نے کہا: زکوٰۃ نہیں۔