حدیث نمبر: 7616
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ النَّضْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ: " كَانُوا لَا يَرْصُدُونَ الثِّمَارَ فِي الدَّيْنِ "، قَالَ: قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " وَيَنْبَغِي لِلْعَيْنِ أَنْ تَرْصُدَ فِي الدَّيْنِ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْأَمْوَالِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَمْوَالِ الْبَاطِنَةِ.حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ پھل کو قرضہ میں نہیں روکتے تھے، فرماتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ مقروض کو لائق ہے کہ وہ اسے قرض میں روک لے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔