السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: وجوب ربع العشر في نصابها وفيما زاد عليه وإن قلت الزيادة. باب: چاندی کے نصاب میں اور اس سے زائد مقدار میں ربع عشر (چالیسواں حصہ) کے واجب ہونے کا بیان، خواہ وہ زیادتی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ مُحَمَّدِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ أَحْكَامًا قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا صَدَقَةَ فِي تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ حَتَّى يَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَكِيلَةُ الْحَبِّ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا لَا يَرَوْنَ الزَّكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفَوَاكِهِ إِلَّا فِي الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خُرْصُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يَرَوْنَ فِي كُلِّ نَيِّفٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَةً، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَكْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ فِي نَيِّفِ الْمَاشِيَةِ صَدَقَةَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أنَّهُ قَالَ: مَا زَادَ يَعْنِي عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ.حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن علی بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے مشائخ کا کہنا ہے کہ کھجور میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی دانے میں، یہاں تک کہ اس کا اندازہ لگایا جائے اور وہ اس دوران اتنا نہ ہو جائے جس قدر پانچ وسق ہوتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے صاع کے ساتھ، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ سونے، چاندی، کھجور، غلہ اور انگور وغیرہ میں نصاب کے مطابق زکاۃ ہے، اگرچہ ایک مد بھی زیادہ ہو جائے یا اس سے زیادہ یا کم، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ چرنے والے جانوروں: اونٹ، گائے اور بکری کی زکاۃ نہیں۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔