السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: وجوب ربع العشر في نصابها وفيما زاد عليه وإن قلت الزيادة. باب: چاندی کے نصاب میں اور اس سے زائد مقدار میں ربع عشر (چالیسواں حصہ) کے واجب ہونے کا بیان، خواہ وہ زیادتی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ مُحَمَّدِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ أَحْكَامًا قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا صَدَقَةَ فِي تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ حَتَّى يَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَكِيلَةُ الْحَبِّ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا لَا يَرَوْنَ الزَّكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفَوَاكِهِ إِلَّا فِي الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خُرْصُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يَرَوْنَ فِي كُلِّ نَيِّفٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَةً، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَكْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ فِي نَيِّفِ الْمَاشِيَةِ صَدَقَةَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أنَّهُ قَالَ: مَا زَادَ يَعْنِي عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ.عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد (ابو الزناد رحمہ اللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارے جن فقہاء کو میں نے پایا جن کے قول پر بات ختم ہوتی ہے، ان میں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اور سلیمان بن یسار ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے مشائخ بھی، اور بعض اوقات کسی مسئلے میں ان کا اختلاف ہوتا تو ہم ان میں سے اکثر اور رائے میں افضل لوگوں کا قول لے لیتے۔ پھر انہوں نے کچھ احکام ذکر کیے اور فرمایا: وہ کہا کرتے تھے کہ کھجور میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلے میں، یہاں تک کہ کھجور کا اندازہ یا غلے کا ماپ نبی کریم ﷺ کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ پھلوں میں سے کسی چیز میں زکاۃ نہیں سمجھتے تھے سوائے انگور کے، جب اس کا اندازہ نبی کریم ﷺ کے صاع کے ساتھ پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور وہ سمجھتے تھے کہ سونے، چاندی، کھجور، غلہ اور انگور میں (نصاب سے) زائد ہر مقدار میں زکاۃ ہے، اگرچہ ایک مد زیادہ ہو یا اس سے زیادہ یا کم، اور وہ مویشیوں: اونٹ، گائے اور بکری میں (نصاب سے) زائد مقدار پر زکاۃ نہیں سمجھتے تھے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔