السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ذكر الخبر الذي روي في وقص الورق. باب: اس حدیث کا ذکر جو چاندی کے وقص (دو نصابوں کی درمیانی مقدار جس پر زکوٰۃ نہیں) کے بارے میں مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنَ الْكُسُورِ شَيْئًا إِذَا كَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ أَخَذَ مِنْهَا خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَلَا يَأْخُذُ مِمَّا زَادَ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَيَأْخُذُ مِنْهَا دِرْهَمًا. ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ عَقِيبَ هَذَا الْحَدِيثِ: الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَهُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُهُ الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَكَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ يَقْلِبُ اسْمَهُ إِذَا رَوَى عَنْهُ وَعُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ قَالَ الشَّيْخُ: مِثْلُ هَذَا لَوْ صَحَّ لَقُلْنَا بِهِ وَلَمْ نُخَالِفْهُ إِلَّا أَنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ جِدًّا وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو حکم دیا: ”جب تک نصاب مکمل نہ ہو تو کم میں زکات نہیں جب تک چاندی کے دو سو درہم نہ ہوجائیں، اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو بھی کچھ نہ لیا جائے جب تک وہ چالیس درہم نہ ہوجائیں تو پھر ان میں سے ایک درہم لیا جائے۔“
شیخ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر بات صحیح ہوتی تو ہم بھی کہہ دیتے اور مخالفت نہ کرتے مگر اس کی سند بہت ضعیف ہے۔