کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چاندی کے نصاب میں اور اس سے زائد مقدار میں ربع عشر (چالیسواں حصہ) کے واجب ہونے کا بیان، خواہ وہ زیادتی کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7521
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ قَالَ: " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَكِنْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے مگر زہیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم چوتھائی عشر لاؤ، یعنی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم، لیکن جب تک وہ دو سو درہم نہ ہو جائیں، تم پر کچھ زکاۃ نہیں۔ سو جب دو سو درہم ہو جائیں تو اس میں سے پانچ درہم ادا کرنا ہوں گے۔ اسی حساب سے زکاۃ ادا کی جائے گی جس قدر بھی زیادہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 7522
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " مَا زَادَ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو مقدار اس سے زیادہ ہو گی اسی حساب سے اس کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 7523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ مُحَمَّدِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا فَذَكَرَ أَحْكَامًا قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا صَدَقَةَ فِي تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ حَتَّى يَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَكِيلَةُ الْحَبِّ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا لَا يَرَوْنَ الزَّكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفَوَاكِهِ إِلَّا فِي الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خُرْصُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يَرَوْنَ فِي كُلِّ نَيِّفٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَةً، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَكْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ فِي نَيِّفِ الْمَاشِيَةِ صَدَقَةَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أنَّهُ قَالَ: مَا زَادَ يَعْنِي عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَبِالْحِسَابِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن علی بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے مشائخ کا کہنا ہے کہ کھجور میں زکاۃ نہیں اور نہ ہی دانے میں، یہاں تک کہ اس کا اندازہ لگایا جائے اور وہ اس دوران اتنا نہ ہو جائے جس قدر پانچ وسق ہوتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے صاع کے ساتھ، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ سونے، چاندی، کھجور، غلہ اور انگور وغیرہ میں نصاب کے مطابق زکاۃ ہے، اگرچہ ایک مد بھی زیادہ ہو جائے یا اس سے زیادہ یا کم، اور وہ خیال کرتے ہیں کہ چرنے والے جانوروں: اونٹ، گائے اور بکری کی زکاۃ نہیں۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔