السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7446
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ عَلَى خَرْصِ التَّمْرِ، وَقَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ أَرْضًا فَاخْرُصْهَا وَدَعْ لَهَا قَدْرَ مَا يَأْكُلُونَ " وَقَدْ ذَكَرَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں کھجور کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا اور کہا: جب تم اس زمین میں آؤ تو تخمینہ لگاؤ اور ان کے لیے اس قدر چھوڑ دو جو وہ کھائیں۔