السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7445
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ابْنِ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَبْعَثُ أَبَا حَثْمَةَ خَارِصًا يَخْرُصُ النَّخْلَ، فَيَأْمُرُهُ إِذَا وَجَدَ الْقَوْمَ فِي حَائِطِهِمْ يَخْرُصُونَهُ أَنْ يَدَعَ لَهُمْ مَا يَأْكُلُونَهُ فَلَا يَخْرُصُهُ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدْيمِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
بشیر بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کو اندازے کے لیے بھیجتے تھے، وہ کھجوروں کا اندازہ لگاتے تھے اور انہیں حکم دیا کرتے کہ جب تم قوم کو ان کے باغ میں پاؤ تو ان کے لیے وہ چھوڑ دو جسے وہ کھائیں اور اس کا اندازہ نہ لگاؤ۔