السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " خَفِّفُوا عَلَى النَّاسِ فِي الْخَرْصِ فَإِنَّ فِيهِ الْعَرِيَّةَ وَالْوَطِيَّةَ وَالْأَكَلَةَ " قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ: لِأَبِي عَمْرٍو وَمَا الْعَرِيَّةُ؟ قَالَ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ وَالثَّلَاثُ ⦗٢٠٩⦘ يَمْنَحُهَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْحَاجَةِ، قُلْتُ: فَمَا الْأَكَلَةُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْمَالِ يَأْكُلُونَ مِنْهُ رُطَبًا فَلَا يُخْرَصُ ذَلِكَ وَيُوضَعُ مِنْ خَرْصِهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْوَطِيَّةُ؟ قَالَ: مَنْ يَغْشَاهُمْ وَيَزُورُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْفِيفِ قَدْ رَوَاهُ مَكْحُولٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.ابو عمرو اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (تخمینہ لگانے والوں کو) بھیجتے اور فرماتے: ”ان کے لیے آسانی کرنا، بے شک ان میں «العَرِيَّةُ» ”عریہ“، «الوَطِيَّةُ» ”وطیہ“ اور «الأَكِلَةُ» ”اکلہ“ بھی ہوتے ہیں۔“ ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو سے کہا: «العَرِيَّةُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک، دو یا تین کھجور کے درخت ہیں جنہیں آدمی لوگوں کی ضرورت کے لیے روک لیتا ہے۔“ پھر میں نے کہا: «الأَكِلَةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”مال والے جو اس میں سے تازہ کھاتے ہیں، اس کا اندازہ نہ لگائیں اور اندازے لگاتے وقت انہیں نکال لیں۔“ میں نے کہا: «الوَطِيَّةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ان کے مہمان جو ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے پاس رہتے ہیں۔“