❮
❯
حدیث نمبر: 7447
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " خَفِّفُوا عَلَى النَّاسِ فِي الْخَرْصِ فَإِنَّ فِيهِ الْعَرِيَّةَ وَالْوَطِيَّةَ وَالْأَكَلَةَ " قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ: لِأَبِي عَمْرٍو وَمَا الْعَرِيَّةُ؟ قَالَ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ وَالثَّلَاثُ ⦗٢٠٩⦘ يَمْنَحُهَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْحَاجَةِ، قُلْتُ: فَمَا الْأَكَلَةُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْمَالِ يَأْكُلُونَ مِنْهُ رُطَبًا فَلَا يُخْرَصُ ذَلِكَ وَيُوضَعُ مِنْ خَرْصِهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْوَطِيَّةُ؟ قَالَ: مَنْ يَغْشَاهُمْ وَيَزُورُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْفِيفِ قَدْ رَوَاهُ مَكْحُولٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ

ابو عمرو اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (تخمینہ لگانے والوں کو) بھیجتے اور فرماتے: ”ان کے لیے آسانی کرنا، بے شک ان میں «العَرِيَّةُ» ”عریہ“، «الوَطِيَّةُ» ”وطیہ“ اور «الأَكِلَةُ» ”اکلہ“ بھی ہوتے ہیں۔“ ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو سے کہا: «العَرِيَّةُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک، دو یا تین کھجور کے درخت ہیں جو آدمی کسی ضرورت مند آدمی کو عطیہ دے دیتا ہے۔“ پھر میں نے کہا: «الأَكِلَةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”مال والے جو اس میں سے تازہ کھاتے ہیں، اس کا اندازہ نہ لگائیں اور اندازے لگاتے وقت انہیں نکال لیں۔“ میں نے کہا: «الوَطِيَّةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ان کے مہمان جو ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے پاس رہتے ہیں۔“
یہ الفاظ جو اوزاعی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تخفیف کے بارے میں روایت کیے ہیں، انہیں مکحول نے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند قوی نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7447