السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7444
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُغِيثٍ الْجُرَشِيُّ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ زُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْخَرْصِ، فَقَالَ: " اثْبِتْ لَنَا النِّصْفَ وَأَبْقِ لَهُمُ النِّصْفَ فَإِنَّهُمْ يَسْرِقُونَ وَلَا يَصِلُ إِلَيْهِمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: قَدْ ثَبَتَ عِنْدَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اثْبِتْ لَنَا الثُّلُثَيْنِ وَأَبْقِ لَهُمُ الثُّلُثَ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُوَلٌ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
صلت بن زبیر رضی اللہ عنہ مزنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے دادا سے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے عامل بنا کر تخمینہ لگانے کے لیے بھیجا اور اسے کہا: ”آدھا ہمارے لیے رکھ لو اور آدھا ان کے لیے چھوڑ دو، بے شک وہ چوری کرتے ہیں اور صلہ رحمی نہیں کرتے۔“
محمد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ بات ہم سے ثابت ہوگئی اور فرمایا: ”تہائی ہمارے لیے چھوڑو اور تہائی ان کو دے دو۔“