حدیث نمبر: 7354
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُكَاتَبٍ لَهُ قَاطَعَهُ بِمَالٍ عَظِيمٍ هَلْ عَلَيْهِ فِيهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: " إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ يَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَكَاةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ "، قَالَ الْقَاسِمُ: " وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَعْطَى النَّاسَ أُعْطِيَاتِهِمْ سَأَلَ الرَّجُلَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَيْكَ فِيهِ ⦗١٨٤⦘ الزَّكَاةُ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ أَخَذَ مِنْ عَطَائِهِ زَكَاةَ مَالِهِ ذَلِكَ، وَإِنْ قَالَ: لَا. سَلَّمَ إِلَيْهِ عَطَاءَهُ وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عقبہ، زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کاتب کے بارے میں دریافت کیا، جس کو اس نے بہت سارا مال دیا، کیا اس میں اس پر زکاۃ ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے کہا: بے شک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مال سے زکاۃ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ اس پر پورا سال آ جائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو عطیات دیتے تو فرماتے: کیا تیرے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے تو اس میں تجھ پر زکاۃ واجب ہو گئی؟ اگر وہ کہتا: ہاں، تو آپ ان کے دیے ہوئے مال میں سے زکاۃ لیتے اور اگر وہ کہتا: نہیں، تو تمام عطیہ اس کے حوالے کر دیتے اور اس سے کچھ بھی مال نہیں لیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»