السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الوقت الذي تجب فيه الصدقة باب: اس وقت کا بیان جب زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
قَدْ مَضَى حَدِيثُ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ " وَحَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَذَكَرَ مِنْهُنَّ وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ فِي كُلِّ عَامٍ "..عاصم بن ضمرہ اور حارث کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث گزر چکی ہے: ”کسی مال میں زکوٰۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے۔“
اور عبداللہ بن معاویہ غاضری کی نبی کریم ﷺ سے مروی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے: ”تین کام ایسے ہیں جو کوئی انہیں کر لے تو اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔“ پھر آپ ﷺ نے ان کاموں کا ذکر کیا (ان میں سے ایک یہ ہے کہ:) ”اور وہ ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کرے، جو اسے فائدہ پہنچانے والی ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالٌ مِنْ قِبَلِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قَبْلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ وَعَدَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي هَكَذَا وَهَكَذَا فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَظُنُّهُ قَالَ: خُذْ فَحَثَوْتُ فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ قَالَ جَابِرٌ: فَعَدَّ فِي يَدِيَّ خَمْسَمِائَةٍ ثُمَّ خَمْسَمِائَةٍ ". قَالَ وَزَادَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ لِجَابِرٍ: لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ابن حضرمی کی طرف سے کچھ مال آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس کسی کا نبی کریم ﷺ پر قرض ہو یا آپ کی طرف سے کوئی وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے کہا: ہاں، میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے (وعدہ) کیا تھا: ”مجھے ایسے ایسے دو۔“ انھوں نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ پھیلائے، میرا خیال ہے چلو ڈالتا ہوں جب وہ پانچ سو ہوگئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: انھوں نے میرے ہاتھ میں پانچ سو شمار کیے، پھر پانچ سو اور بعض نے اس سے زیادہ کہے ہیں اور انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تجھ پر زکوٰۃ نہیں حتیٰ کہ سال گزر جائے۔“