السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الوقت الذي تجب فيه الصدقة باب: اس وقت کا بیان جب زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7355
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: كُنْتُ إِذَا جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبِضُ مِنْهُ عَطَائِي سَأَلَنِي " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ؟ " فَإِنْ قُلْتُ نَعَمْ أَخَذَ مِنْ عَطَائِي زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِنْ قُلْتُ لَا دَفَعَ إِلَيَّ عَطَائِي لَفْظُ رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَإِنْ قُلْتُ: لَا سَلَّمَ إِلَيَّ عَطَائِي وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: جب میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آتا اور ان سے اپنا حصہ وصول کرتا تو وہ کہتے: کیا تیرے پاس مال ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہو؟ اگر میں کہتا: ہاں، تو وہ میرے حصے میں سے زکوٰۃ وصول کر لیتے اور اگر میں کہتا: نہیں، تو وہ مجھے میرا حصہ دے دیتے۔
یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں۔ ابن بکیر رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: اگر میں کہتا: نہیں، تو میرا حصہ مجھے دے دیتے اور اس میں سے کچھ نہ لیتے۔