کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس وقت کا بیان جب زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
❮
❯
قَدْ مَضَى حَدِيثُ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ " وَحَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَذَكَرَ مِنْهُنَّ وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ فِي كُلِّ عَامٍ "..
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ اور حارث کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث گزر چکی ہے: ”کسی مال میں زکوٰۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے۔“
اور عبداللہ بن معاویہ غاضری کی نبی کریم ﷺ سے مروی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے: ”تین کام ایسے ہیں جو کوئی انہیں کر لے تو اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔“ پھر آپ ﷺ نے ان کاموں کا ذکر کیا (ان میں سے ایک یہ ہے کہ:) ”اور وہ ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کرے، جو اسے فائدہ پہنچانے والی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالٌ مِنْ قِبَلِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قَبْلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ وَعَدَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي هَكَذَا وَهَكَذَا فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَظُنُّهُ قَالَ: خُذْ فَحَثَوْتُ فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ قَالَ جَابِرٌ: فَعَدَّ فِي يَدِيَّ خَمْسَمِائَةٍ ثُمَّ خَمْسَمِائَةٍ ". قَالَ وَزَادَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ لِجَابِرٍ: لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ابن حضرمی کی طرف سے کچھ مال آیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس کسی کا نبی کریم ﷺ پر قرض ہو یا آپ کی طرف سے کوئی وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اتنا اتنا دیں گے، اور تین مرتبہ اپنے ہاتھ پھیلائے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: ”لے لو۔“ تو میں نے لپ بھرا تو وہ پانچ سو تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر انہوں نے میرے ہاتھوں میں پانچ سو گنے، پھر پانچ سو۔ اور دوسرے راویوں نے اس حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تجھ پر اس میں زکوٰۃ نہیں حتیٰ کہ اس پر سال گزر جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7353
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُكَاتَبٍ لَهُ قَاطَعَهُ بِمَالٍ عَظِيمٍ هَلْ عَلَيْهِ فِيهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: " إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ يَأْخُذُ مِنْ مَالٍ زَكَاةً حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ "، قَالَ الْقَاسِمُ: " وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَعْطَى النَّاسَ أُعْطِيَاتِهِمْ سَأَلَ الرَّجُلَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ عَلَيْكَ فِيهِ ⦗١٨٤⦘ الزَّكَاةُ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ أَخَذَ مِنْ عَطَائِهِ زَكَاةَ مَالِهِ ذَلِكَ، وَإِنْ قَالَ: لَا. سَلَّمَ إِلَيْهِ عَطَاءَهُ وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عقبہ، زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے اپنے ایک مکاتب کے بارے میں دریافت کیا، جس نے (اپنی آزادی کے لیے) مجھ سے بہت بڑے مال پر مصالحت کی تھی، کیا اس میں اس پر زکاۃ ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے کہا: بے شک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مال سے زکاۃ نہیں لیتے تھے حتیٰ کہ اس پر پورا سال آ جائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو عطیات دیتے تو فرماتے: کیا تیرے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے تو اس میں تجھ پر زکاۃ واجب ہو گئی؟ اگر وہ کہتا: ہاں، تو آپ ان کے دیے ہوئے مال میں سے زکاۃ لیتے اور اگر وہ کہتا: نہیں، تو تمام عطیہ اس کے حوالے کر دیتے اور اس سے کچھ بھی مال نہیں لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: كُنْتُ إِذَا جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبِضُ مِنْهُ عَطَائِي سَأَلَنِي " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ؟ " فَإِنْ قُلْتُ نَعَمْ أَخَذَ مِنْ عَطَائِي زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، وَإِنْ قُلْتُ لَا دَفَعَ إِلَيَّ عَطَائِي لَفْظُ رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَإِنْ قُلْتُ: لَا سَلَّمَ إِلَيَّ عَطَائِي وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: جب میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آتا اور ان سے اپنا حصہ وصول کرتا تو وہ کہتے: کیا تیرے پاس مال ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہو؟ اگر میں کہتا: ہاں، تو وہ میرے حصے میں سے زکوٰۃ وصول کر لیتے اور اگر میں کہتا: نہیں، تو وہ مجھے میرا حصہ دے دیتے۔
یہ الفاظ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں۔ ابن بکیر رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: اگر میں کہتا: نہیں، تو میرا حصہ مجھے دے دیتے اور اس میں سے کچھ نہ لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7355
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَا تَجِبُ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ: ”کسی مال میں زکوۃ واجب نہیں حتیٰ کہ اس پر سال گزر جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني تخريجه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَعْطِيَةِ الزَّكَاةَ مُعَاوِيَةُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْعَطَاءُ فَائِدَةٌ وَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.
حافظ ثناء اللہ
مالک، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس نے عطایا میں سے زکوۃ وصول کی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ایک فائدہ ہے، اس میں زکوۃ نہیں ہے حتیٰ کہ سال گزر جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7357
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»