السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
حدیث نمبر: 7306
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ فَقَالَ: " أِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي وَأِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِذَا أَخَذْتُ خِيَارَ مَالِ امْرِئٍ فَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ مِنَ الْإِبِلِ فَقَبِلَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے عامل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک بڑی اونٹنی کے پاس لے آیا تو وہ کہنے لگا کہ کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی، اگر میں کسی کا عمدہ مال وصول کروں گا؟ تو پھر میں ان کے پاس اونٹوں میں سے ایک اونٹنی لایا تو وہ انہوں نے قبول کر لی۔