السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
حدیث نمبر: 7305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ فِي عَهْدِي " أَنْ لَا آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ " وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَقَالَ: خُذْهَا فَأَبَى.حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا مصدق آیا تو میں اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا، میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ”میرے عہد میں یہ بات شامل ہے کہ میں دودھ پلانے والا جانور نہ لوں اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا کروں اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کروں“ تو اس کے پاس ایک آدمی بڑی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور اس نے کہا: ”یہ وصول کرلو“ مگر مصدق نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔