حدیث نمبر: 7303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوْلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ⦗١٧٠⦘ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”تو ایک ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں۔ سو تو انہیں سب سے پہلے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ کو جان لیں تو پھر انہیں بتا: اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ یہ کر لیں تو انہیں آگاہ کرو کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو مال داروں سے وصول کر کے غریبوں کو دی جائے گی۔ جب وہ اس بات کی اطاعت کر لیں تو وہ ان سے لو اور ان کے عمدہ اموال سے بچ۔“
حدیث نمبر: 7304
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تَأْخُذْ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهَ حِينَ تُرَدُّ الْغَنَمُ فَيَقُولُ: أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ ". قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْكَوْمَاءُ؟ قَالَ: عَظِيمَةُ السَّنَامِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا وَقَالَ: إِنِّي آخُذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں عامل کے ساتھ گیا تھا، جسے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”وہ دودھ پلانے والا جانور نہ لے اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا کرے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے۔“ پس وہ ان کے پاس پانی پلانے کی جگہ پر آتے اور انہیں کہتے، جب بکریاں وہاں آتیں کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی «كَوْمَاء» اونٹنی کا قصد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابو صالح! یہ «كَوْمَاء» کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: عظیم کوہان والی۔ وہ کہتے ہیں، انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا تو اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم میرے عمدہ اونٹوں میں سے لو مگر مصدق نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اس نے دوسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ لینے سے بھی انکار کر دیا، پھر اس نے تیسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ قبول کر لیا اور کہا کہ میں لے تو رہا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ پیارے پیغمبر ﷺ میرا مؤاخذہ نہ کریں اور کہیں کہ: ”تو ایک ایسے شخص کے پاس گیا اور تو نے اسے اس کے اونٹوں میں اختیار دے دیا۔“
حدیث نمبر: 7305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ فِي عَهْدِي " أَنْ لَا آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ " وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَقَالَ: خُذْهَا فَأَبَى.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا مصدق آیا تو میں اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا، میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ”میرے عہد میں یہ بات شامل ہے کہ میں دودھ پلانے والا جانور نہ لوں اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا کروں اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کروں“ تو اس کے پاس ایک آدمی بڑی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور اس نے کہا: ”یہ وصول کرلو“ مگر مصدق نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 7306
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ فَقَالَ: " أِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي وَأِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِذَا أَخَذْتُ خِيَارَ مَالِ امْرِئٍ فَأَتَيْتُهُ بِنَاقَةٍ مِنَ الْإِبِلِ فَقَبِلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے عامل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک بڑی اونٹنی کے پاس لے آیا تو وہ کہنے لگا کہ کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اٹھائے گی، اگر میں کسی کا عمدہ مال وصول کروں گا؟ تو پھر میں ان کے پاس اونٹوں میں سے ایک اونٹنی لایا تو وہ انہوں نے قبول کر لی۔
حدیث نمبر: 7307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الطَّيَالِسِيُّ حَمُّوَيْهِ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ أَتَى مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَأَخَذَ بِيَدِي فَقَرَأْتُ فِي ⦗١٧١⦘ عَهْدِهِ أَنْ " لَا يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ "، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ قَالَ: أِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَنَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ حِينَ خَرَجَ مُصَدِّقًا وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْأَخْذِ إِذَا تَطَوَّعَ بِهِ صَاحِبُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا عامل آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ ”یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔“ ایک آدمی بڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ دوسری لایا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ اور لایا تو اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: ”کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا جب کہ میں یہ لوں گا۔“ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جب وہ عامل بن کر نکلے اور اس میں نفلی صدقہ لینے کے جواز کی دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 7308
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا فِي مَكَانِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ، وَفِي رِوَايَةِ الْحَارِثِ قَالَ: رَأَيْتُ فِي مَجْلِسِ أَيُّوبَ أَعْرَابِيًّا عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَوْلَايَ قُرَّةُ بْنُ دَعْمُوصٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، فَقَالَ: " غَفَرَ اللهُ لَكَ "، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ سَاعِيًا قَالَ: فَجَاءَ بِإِبِلٍ جُلَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعٍ فَأَخَذْتُ جُلَّةَ أَمْوَالِهِمْ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا أَصْحَابَكَ، فَقَالَ: " وَاللهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي جِئْتَ بِهِ، اذْهَبْ فَرُدَّهَا عَلَيْهِمْ وَخُذْ صَدَقَاتِهِمْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قرہ بن دعموص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے ارد گرد تھے۔ میں نے چاہا کہ میں آپ ﷺ سے قریب ہو کر بیٹھوں مگر میں قریب نہ جا سکا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے نمیری غلام کے لیے استغفار کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَكَ» ”اللہ تجھے معاف کرے“۔ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ضحاک رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجا تو وہ ایک بڑا اونٹ لے آئے، تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو ہلال بن عامر اور نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس آیا ہے اور ان کے عمدہ مال کو لیا ہے“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے سنا آپ ﷺ غزوے کا تذکرہ کر رہے تھے تو میں نے چاہا کہ ایسا اونٹ لاؤں جس پر آپ ﷺ سوار ہوں اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو تو چھوڑ کر آیا ہے وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب تھا جسے تو لے کر آیا ہے، جا اور اسے واپس لوٹا اور ان کے عام مال سے زکوۃ وصول کر۔“
حدیث نمبر: 7309
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ: " أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ " فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءً مِنْ حِقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا قَالَ مَالِكٌ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يُضَيَّقُ عَلَى النَّاسِ فِي زَكَاتِهِمْ وَأَنْ يُقْبَلَ مِنْهُمْ مَا دَفَعُوا مِنْ زَكَاةِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ الشَّيْخُ: إِذَا كَانَ فِيمَا دَفَعُوا وَفَاءٌ مِنَ الْحَقِّ كَمَا رَوَاهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے خبر دی جو اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس عامل کی حیثیت سے آئے تھے اور وہ صاحبِ مال سے کہنے لگے: اپنے مال کی زکوٰۃ نکالو، تو وہ جو بھی بکری زکوٰۃ میں لاتے تو وہ اسے قبول کر لیتے۔ مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے میں لوگوں کو تنگ نہ کریں اور یہ ان سے قبول کریں جو وہ زکوٰۃ میں ادا کریں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جب کہ زکوٰۃ پوری پوری ہو جو اس پر واجب ہو جیسا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہو چکا۔
حدیث نمبر: 7310
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗١٧٢⦘ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُصَدِّقًا قَالَ: " لَا تَأْخُذْ مِنْ حَزَرَاتِ أَنْفَسِ النَّاسِ شَيْئًا خُذِ الشَّارِفَ وَالْبِكْرَ وَذَوَاتِ الْعَيْبِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا: ”لوگوں کے عمدہ مال میں سے وصول نہ کر، بلکہ بوڑھی، بچی اور عیب والی بھی قبول کر لے۔“
حدیث نمبر: 7311
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: " يَقُولُ: لَا تَأْخُذْ خِيَارَ أَمْوَالِهِمْ خُذِ الشَّارِفَ، وَهِيَ الْمُسِنَّةُ الْهَرِمَةُ، وَالْبِكْرَ وَهُوَ الصَّغِيرُ مِنْ ذُكُورِ الْإِبِلِ وَأَنَّهُ كَانَ فِي أَوْلِ الْإِسْلَامِ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ النَّاسُ بِالشَّرَائِعِ " قَالَ الشَّيْخُ: الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَقَدْ يُتَصَوَّرُ عِنْدَنَا أَخْذُ الذُّكُورِ وَالصِّغَارِ وَالْمَعِيبَةِ، إِذَا كَانَتْ مَاشِيَتُهُ كُلُّهَا كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تو ان کے عمدہ مال میں سے وصول نہ کر، بلکہ تو بوڑھی قبول کر اور «بَكْرٌ» یعنی چھوٹی عمر والا اونٹ“ اور یہ شروعِ اسلام میں تھا، اس سے پہلے کہ لوگ شریعت سیکھتے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، ہمارے نزدیک یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب تمام مویشی عیب دار اور مذکر ہوں تو مذکر، چھوٹے اور عیب دار کو ہی لے لیا جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، ہمارے نزدیک یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب تمام مویشی عیب دار اور مذکر ہوں تو مذکر، چھوٹے اور عیب دار کو ہی لے لیا جائے۔
حدیث نمبر: 7312
وَرُوِّينَا عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: " إِذَا انْتَهَى الْمُصَدِّقُ إِلَى الْغَنَمِ صَدَعَهَا صَدْعَيْنِ فَيَأْخُذُ صَاحِبُ الْغَنَمِ خَيْرَ الصَّدْعَيْنِ وَيَأْخُذُ صَاحِبُ الصَّدَقَةِ مِنَ الصَّدْعِ الْآخَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم بیان فرماتے ہیں: جب عامل بکریوں کے پاس آتا تو انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتا، پھر بکریوں والا عمدہ حصہ پیش کرتا اور عامل دوسرے حصے میں سے وصول کرتا۔
حدیث نمبر: 7313
وَرُوِّينَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ: " يَصْدَعُهَا ثَلَاثَةَ أَصْدَاعٍ ثُلُثَ خِيَارٍ، وَثُلُثَ وَسَطٍ، وَثُلُثَ دُونٍ، فَيَدَعُ الْمُصَدِّقُ الْخِيَارَ وَيَأْخُذُ مِنَ الْوَسَطِ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْهُمَا بِهِمَا جَمِيعًا، وَقَدْ حَكَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ هَذَيْنِ الْمَذْهَبَيْنِ مِنْ غَيْرِ تَسْمِيَةِ قَائِلَيْهِمَا، وَرُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ قَوْلِ الْقَاسِمِ، وَرُوِّينَا عَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَخْتَارُ صَاحِبُ الْغَنَمِ الثُّلُثَ ثُمَّ اخْتَارُوا مِنَ الثُّلُثَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ان کے تین حصے کرتے، ایک تہائی عمدہ، ایک تہائی درمیانے جانور اور ایک تہائی اس سے کمزور؛ عامل عمدہ کو چھوڑ کر درمیانے میں سے وصول کرتا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی گئی کہ بکریوں والا ایک ثلث کو چن لے گا، پھر باقی دو ثلث میں سے وہ منتخب کریں گے۔