السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الطَّيَالِسِيُّ حَمُّوَيْهِ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ أَتَى مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَأَخَذَ بِيَدِي فَقَرَأْتُ فِي ⦗١٧١⦘ عَهْدِهِ أَنْ " لَا يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ "، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ أَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، ثُمَّ قَالَ: أِيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأِيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَنَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ حِينَ خَرَجَ مُصَدِّقًا وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الْأَخْذِ إِذَا تَطَوَّعَ بِهِ صَاحِبُهُ.سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا عامل آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ ”یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔“ ایک آدمی بڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا تو انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ دوسری لایا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، پھر وہ اس کے علاوہ اور لایا تو اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: ”کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا جب کہ میں یہ لوں گا۔“ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جب وہ عامل بن کر نکلے اور اس میں نفلی صدقہ لینے کے جواز کی دلیل ہے۔