السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: السن التي تؤخذ في الغنم باب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصْدِقًا وَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا: أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " نَعَمْ نَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا نَأْخُذُهَا وَلَا نَأْخُذُ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَنَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ ".سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں عامل بنا کر بھیجا اور وہ ان کے ساتھ ان کے بچوں (مویشیوں) کے معاملے میں زیادتی کرتے تھے، تو وہ کہنے لگے کہ کیا تم ہمارے بکری کے بچے بھی شمار کرتے ہو! مگر ان میں سے لیتے نہیں ہو۔ جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اس بات کا تذکرہ کیا جس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، ہم ان کے بچے شمار کریں گے جسے اس کا چرواہا اٹھاتا ہے مگر اسے نہیں لیں گے اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ بچوں والی اور نہ ہی حاملہ اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لیں گے، بلکہ ہم «جَذَعَة» ”جذعہ“ یا «ثَنِيَّة» ”ثنیہ“ عمر کی بکریاں وصول کریں گے اور یہ مال و غذا میں برابری ہے۔