کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
حدیث نمبر: 7300
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ عَنْ رَسُولَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَا فِي الشَّاةِ الَّتِي أَعْطَاهُمَا: هَذِهِ شَافِعٌ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: أِيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً قَالَ: فَأَخْرَجْتُ إِلَيْهِمَا عَنَاقًا قَالَا: ارْفَعْهَا إِلَيْنَا فَتَنَاوَلَاهَا فَحَمَلَاهَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ⦗169⦘.
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن شعبہ کی سعر بن دیسم سے اور ان کی رسول اللہ ﷺ کے دو قاصدوں سے مروی حدیث گزر چکی ہے کہ ان دونوں نے اس بکری کے بارے میں کہا جو انہیں دی گئی تھی: ”یہ «شَافِعٌ» ہے اور بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم «شَافِعًا» لیں۔“ اور «الشَّافِعُ» وہ مادہ ہے جس کے پیٹ میں اس کا بچہ ہو۔ سعر کہتے ہیں، تو میں نے پوچھا: ”پھر آپ دونوں کیا لیں گے؟“ انہوں نے کہا: ”«عَنَاقًا جَذَعَةً» (ایک سالہ پٹھی) یا «ثَنِيَّةً» (دو سالہ بکری)۔“ سعر کہتے ہیں: تو میں نے ان کی طرف ایک «عَنَاقًا» (پٹھی) نکالی، انہوں نے کہا: ”اسے ہماری طرف اٹھا دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پکڑا اور اپنے اونٹ پر لاد لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7300
حدیث نمبر: 7300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّ شَيْخَنَا لَمْ يُثْبِتِ اسْمَ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابی سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے مسلم بن شعبہ رحمہ اللہ نے ایسے ہی حدیث سنائی، مگر یہ کہ ہمارا شیخ مضبوط حافظے کا نہیں، جن کا نام سعر بن دیسم ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7300
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 7301
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى الطَّائِفِ وَمَخَالِيفِهَا، فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَمْ يَأْخُذْهُ مِنْهُمْ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَيْنَا بِالْغِذَاءِ فَخُذْهُ مِنَّا فَأَمْسَكَ حَتَّى لَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: اعْلَمْ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُهُمْ نَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَا نَأْخُذُهُ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ حَتَّى بِالسَّخْلَةِ يَرُوُحُ بِهَا الرَّاعِي عَلَى يَدِهِ، وَقُلْ لَهُمْ لَا آخُذُ مِنْكُمُ الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا ذَاتَ الدَّرِّ وَلَا الشَّاةَ الْأَكُولَةَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے گرد و نواح پر عامل بنا کر بھیجا تو وہ زکوٰۃ لینے کے لیے نکلے۔ انہوں نے ان پر غذا میں زیادتی کی اور ان سے وہ نہ لی تو انہوں نے کہا: اگر تو ہم پر غذا میں زیادتی کرتا ہے تو پھر تو ہم سے لے جا، تو وہ زکوٰۃ لینے سے رک گئے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ان پر غذا میں زیادتی کر کے ظلم کیا ہے اور میں ان سے نہیں لیتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا کہ تو ان کی غذا میں زیادتی کر، یہاں تک کہ وہ بکری کے بچے بھی ساتھ لائیں اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے سود نہیں لیتا اور نہ ہی میں کمزور اور دودھ والی اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، بلکہ میں تو ان سے بکری کا بچہ «جَذَعَة» ”جذعہ (سال سے کم عمر کا)“ وصول کروں گا اور «ثَنِيَّة» ”دوندا (ثنیہ)“ وصول کروں گا، یہ مال اور غذا کے درمیان عدل اور اس کی عمدگی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7301
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
حدیث نمبر: 7302
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصْدِقًا وَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ، فَقَالُوا: أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " نَعَمْ نَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا نَأْخُذُهَا وَلَا نَأْخُذُ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَنَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں عامل بنا کر بھیجا اور وہ ان کے ساتھ ان کے بچوں (مویشیوں) کے معاملے میں زیادتی کرتے تھے، تو وہ کہنے لگے کہ کیا تم ہمارے بکری کے بچے بھی شمار کرتے ہو! مگر ان میں سے لیتے نہیں ہو۔ جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اس بات کا تذکرہ کیا جس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، ہم ان کے بچے شمار کریں گے جسے اس کا چرواہا اٹھاتا ہے مگر اسے نہیں لیں گے اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ بچوں والی اور نہ ہی حاملہ اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لیں گے، بلکہ ہم «جَذَعَة» ”جذعہ“ یا «ثَنِيَّة» ”ثنیہ“ عمر کی بکریاں وصول کریں گے اور یہ مال و غذا میں برابری ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7302
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»