السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
حدیث نمبر: 7303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوْلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ⦗١٧٠⦘ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ بِسْطَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”تو ایک ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں۔ سو تو انہیں سب سے پہلے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ کو جان لیں تو پھر انہیں بتا: اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ یہ کر لیں تو انہیں آگاہ کرو کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو مال داروں سے وصول کر کے غریبوں کو دی جائے گی۔ جب وہ اس بات کی اطاعت کر لیں تو وہ ان سے لو اور ان کے عمدہ اموال سے بچ۔“