السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: السن التي تؤخذ في الغنم باب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى الطَّائِفِ وَمَخَالِيفِهَا، فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَمْ يَأْخُذْهُ مِنْهُمْ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَيْنَا بِالْغِذَاءِ فَخُذْهُ مِنَّا فَأَمْسَكَ حَتَّى لَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: اعْلَمْ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُهُمْ نَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَا نَأْخُذُهُ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ حَتَّى بِالسَّخْلَةِ يَرُوُحُ بِهَا الرَّاعِي عَلَى يَدِهِ، وَقُلْ لَهُمْ لَا آخُذُ مِنْكُمُ الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا ذَاتَ الدَّرِّ وَلَا الشَّاةَ الْأَكُولَةَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ ".بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے گرد و نواح پر عامل بنا کر بھیجا تو وہ زکوٰۃ لینے کے لیے نکلے۔ انہوں نے ان پر غذا میں زیادتی کی اور ان سے وہ نہ لی تو انہوں نے کہا: اگر تو ہم پر غذا میں زیادتی کرتا ہے تو پھر تو ہم سے لے جا، تو وہ زکوٰۃ لینے سے رک گئے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ان پر غذا میں زیادتی کر کے ظلم کیا ہے اور میں ان سے نہیں لیتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا کہ تو ان کی غذا میں زیادتی کر، یہاں تک کہ وہ بکری کے بچے بھی ساتھ لائیں اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے سود نہیں لیتا اور نہ ہی میں کمزور اور دودھ والی اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، بلکہ میں تو ان سے بکری کا بچہ «جَذَعَة» ”جذعہ (سال سے کم عمر کا)“ وصول کروں گا اور «ثَنِيَّة» ”دوندا (ثنیہ)“ وصول کروں گا، یہ مال اور غذا کے درمیان عدل اور اس کی عمدگی ہے۔