السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: السن التي تؤخذ في الغنم باب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ عَنْ رَسُولَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَا فِي الشَّاةِ الَّتِي أَعْطَاهُمَا: هَذِهِ شَافِعٌ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: أِيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً قَالَ: فَأَخْرَجْتُ إِلَيْهِمَا عَنَاقًا قَالَا: ارْفَعْهَا إِلَيْنَا فَتَنَاوَلَاهَا فَحَمَلَاهَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ⦗169⦘.مسلم بن شعبہ کی سعر بن دیسم سے اور ان کی رسول اللہ ﷺ کے دو قاصدوں سے مروی حدیث گزر چکی ہے کہ ان دونوں نے اس بکری کے بارے میں کہا جو انہیں دی گئی تھی: ”یہ «شَافِعٌ» ہے اور بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم «شَافِعًا» لیں۔“ اور «الشَّافِعُ» وہ مادہ ہے جس کے پیٹ میں اس کا بچہ ہو۔ سعر کہتے ہیں، تو میں نے پوچھا: ”پھر آپ دونوں کیا لیں گے؟“ انہوں نے کہا: ”«عَنَاقًا جَذَعَةً» (ایک سالہ پٹھی) یا «ثَنِيَّةً» (دو سالہ بکری)۔“ سعر کہتے ہیں: تو میں نے ان کی طرف ایک «عَنَاقًا» (پٹھی) نکالی، انہوں نے کہا: ”اسے ہماری طرف اٹھا دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پکڑا اور اپنے اونٹ پر لاد لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّ شَيْخَنَا لَمْ يُثْبِتِ اسْمَ سَعْرِ بْنِ دَيْسَمٍ.عمرو بن ابی سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے مسلم بن شعبہ رحمہ اللہ نے ایسے ہی حدیث سنائی، مگر یہ کہ ہمارا شیخ مضبوط حافظے کا نہیں، جن کا نام سعر بن دیسم ہے۔