السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض صدقة البقر باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7290
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ⦗١٦٦⦘ مُسِنَّةً، وَأَتَى بِمَا دُونَ ذَلِكَ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے تیس گایوں میں ایک بچھڑا وصول کیا اور چالیس گایوں میں سے ایک «مُسِنَّة»، اس سے کم تعداد ان کے پاس لائی گئی تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا، یہاں تک کہ میں ان سے ملوں اور ان سے پوچھ لوں، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ وفات پا گئے۔