السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض صدقة البقر باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7289
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الْبَقَرِ فَقَالَ: بَلَغَنِي عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نافع سے گائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہر تیس گایوں میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔