حدیث نمبر: 7286
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ إِمْلَاءً، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَا: قَالَ مُعَاذٌ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلُهُ مَعَافِرِيٌّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تاکہ ان سے ”ہر چالیس گائے میں ایک ثنیہ گائے لی جائے اور ہر تیس میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر بالغ کی طرف سے ایک دینار یا اس کے برابر رائج الوقت سکّہ ہے“۔
حدیث نمبر: 7287
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: " بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلُهُ مَعَافِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ: ”ہر تیس گائے میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا وصول کروں اور ہر چالیس میں سے مسنہ وصول کروں اور ہر بالغ غلام کی طرف سے ایک دینار یا اس کے برابر رائج الوقت سکہ۔“
حدیث نمبر: 7288
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدُ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
حدیث نمبر: 7289
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الْبَقَرِ فَقَالَ: بَلَغَنِي عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نافع سے گائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہر تیس گایوں میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔
حدیث نمبر: 7290
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ⦗١٦٦⦘ مُسِنَّةً، وَأَتَى بِمَا دُونَ ذَلِكَ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے تیس گایوں میں ایک بچھڑا وصول کیا اور چالیس گایوں میں سے ایک «مُسِنَّة»، اس کے علاوہ ان کے پاس لایا گیا تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کوئی حدیث نہیں پائی حتیٰ کہ میں ان سے ملا تاکہ میں ان سے پوچھوں، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 7291
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْوَقْصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، طاؤس رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گائے کا عمدہ بچہ لایا گیا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے کرنے کا حکم نہیں دیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْوَقَصُ» ”وقص“ وہ جانور ہے جو فریضہ کو نہ پہنچا ہو۔
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“
حدیث نمبر: 7292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ثنا الْحَكَمُ فَذَكَرَهُ وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ أَجْوَدَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن عمارہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے حکم نے یہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 7293
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً فَقَالُوا فَالْأَوْقَاصُ؟ قَالَ: فَقَالَ: مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ عَنِ الْأَوْقَاصِ فَقَالَ: " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ " وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَالْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ وَمَا بَيْنَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ، وَإِذَا كَانَتْ سِتُّونَ فَفِيهَا تَبِيعَتَانِ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلَاثُ تَبَائِعَ، قَالَ بَقِيَّةُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ الْأَوْقَاصُ: هِيَ بِالسِّينِ الْأَوْقَاسُ فَلَا تَجْعَلْهَا بِصَادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو انھیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک بچھڑا یا بچھیا لیں جو «جَذَعَةٌ» ہو اور ہر چالیس گائیوں میں سے «مُسِنَّةٌ» لیں، تو انھوں نے کہا: «أَوْقَاصٌ» کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھوں گا جب آپ ﷺ کے پاس جاؤں گا، سو جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کچھ زکوۃ نہیں۔“ مسعودی کہتے ہیں کہ «أَوْقَاصٌ» جو تیس اور چالیس کے درمیان اور یہ ساٹھ تک ہے، جب ساٹھ ہو جائیں تو ساٹھ میں ایک بچھیا ہے اور جب ستر ہو جائیں تو اس میں ایک «مُسِنَّةٌ» اور ایک بچھڑا ہے۔ جب اسی ہو جائیں تو دو «مُسِنَّةٌ» ہیں اور جب نوے ہو جائیں تو اس میں تین بچھڑے ہیں۔ مسعودی کہتے ہیں: «أَوْقَاصٌ» سین سے ہے، اسے صاد سے نہ سمجھو۔
حدیث نمبر: 7294
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ الْبُوشَنْجِيُّ حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ ⦗١٦٧⦘ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فِيهِ: وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ.
حافظ ثناء اللہ
زہیر فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ“، پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں فرمایا کہ ”تیس گائے میں ایک بچھڑا اور چالیس گائے میں ایک مسنہ ہے اور کام کرنے والے جانوروں پر کوئی زکاۃ نہیں“۔
حدیث نمبر: 7295
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ " لَمْ يَذْكُرْ جَنَاحٌ فِي رِوَايَتِهِ، جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر تیس گائے میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور چالیس گائے میں ایک «مُسِنَّة» ہے۔“
حدیث نمبر: 7296
وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ قَالَ فِيهِ: " وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً تَبِيعٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ ". حَدَّثَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اہل یمن کی طرف تحریر بھیجی، جس میں لکھا تھا کہ ”ہر تیس گائے میں بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔“
حدیث نمبر: 7297
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ يَرْفَعُهُ، وَابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: " فِي أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ مُسِنَّةٌ وَفِي ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد، شعبی رحمہ اللہ سے اور ابو عیاش، انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس گائے میں ایک مسنہ ہے اور تیس گائے میں ایک بچھڑا ہے یا بچھیا ہے۔“
حدیث نمبر: 7298
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، " فِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْبَقَرِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَإِذَا كَانَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بَقَرَتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّ قَوْلَهُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ "، إِنَّ ذَلِكَ كَانَ تَخْفِيفًا لِأَهْلِ الْيَمَنِ ثُمَّ كَانَ هَذَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهَذَا حَدِيثٌ مَوْقُوفٌ وَمُنْقَطِعٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُنْقَطِعًا وَالْمُنْقَطِعُ لَا تَثْبُتُ بِهِ حُجَّةٌ وَمَا قَبْلَهُ أَكْثَرُ وَأَشْهَرُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ گائے میں ایک بکری ہے اور دس گائے میں دو بکریاں اور پندرہ میں تین اور بیس گائے میں چار بکریاں ہیں۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب پچیس ہو جائیں گی تو پچھتر تک ایک گائے ہے، جب پچھتر سے زیادہ ہو جائیں تو اس میں دو گائے ہوں گی ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک گائے ہے۔ یہ تخفیف اہل یمن کے لیے تھی پھر اس کے بعد یہ ہوا تو یہ حدیث موقوف ہے اور منقطع ہے اور دوسری سند سے زہری سے بھی منقطع روایت کی گئی ہے اور منقطع سے حجت نہیں لی جاتی اور اس سے پہلی روایات زیادہ مشہور ہیں۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب پچیس ہو جائیں گی تو پچھتر تک ایک گائے ہے، جب پچھتر سے زیادہ ہو جائیں تو اس میں دو گائے ہوں گی ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک گائے ہے۔ یہ تخفیف اہل یمن کے لیے تھی پھر اس کے بعد یہ ہوا تو یہ حدیث موقوف ہے اور منقطع ہے اور دوسری سند سے زہری سے بھی منقطع روایت کی گئی ہے اور منقطع سے حجت نہیں لی جاتی اور اس سے پہلی روایات زیادہ مشہور ہیں۔